Dr. Rizwan Ali

Notes Islamic Education || Islamiat Lazmi First Year || Inter Part First

#Notes #Islamic #Education || Islamiat #Lazmi #First #Year || Inter Part First

نوٹس اسلامیات لازمی انٹر پارٹ فرسٹ – گیارھویں جماعت نوٹس

نوٹس اسلامیات لازمی انٹرمیڈیٹ  پارٹ فرسٹ

تیار کنندہ

www.facebook.com/DrRizwanOnline

نوٹ: پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے آخر میں دیئے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں۔

س:عقیدہ کے لغوی اور اصطلاحی معانی لکھیں؟ نیز بتا ئیں کہ عقیدہ کو کس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے؟

ج:لفظ عقیدہ  ” عقد ” سےبنا ہے ۔ عقد کے معنی : “باندھنا “اور” گرہ لگانا” کے ہیں ، عقیدہ کے لغوی معانی ہیں :” گرہ لگا ئی ہوئی” اور” باندھی ہوئی چیز”

عقیدہ کے اصطلاحی معانی:کسی انسان کے پختہ اور اٹل نظریات   اس کا عقیدہ کہلاتے ہیں۔

٭           عقیدہ کی مثال ایک بیج جیسی ہے اور عمل “اس بیج سے اگنے والے پودے کی  طرح  “ہے ۔

یعنی انسان کے عقائد اس کے اعمال کے محرک ہیں ، جیسے عقائد ہوں گے ویسے ہی اس کے اعمال ہوں گے۔یہ عقائد انسان کے دل و دماغ پر حکمرانی کرتے ہیں۔

س: اسلام کے بنیادی عقائد کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں؟/ عقائد اسلام تحریر کیجیے۔

ج: اسلام کے بنیادی عقائد پانچ ہیں:

 1۔ عقیدہ توحید          2۔ عقیدہ رسالت       3۔ملائکہ(فرشتوں) پر ایمان     4۔الہامی (آسمانی) کتابوں پر ایمان               5۔ عقیدہ آخرت

س: عقیدہ توحید سے کیا مراد ہے، لغوی اور اصطلاحی معانی لکھیں؟

ج: لغوی معنی: ایک ماننا / واحد ماننا اور یکتا جاننا

اصطلاحی مفہوم: اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات ، صفات اور صفات کے تقاضوں میں واحد اور لاشریک ماننا  عقیدہ توحید کہلاتا ہے۔

س: عقیدہ توحید کے انسانی زندگی پر  چار اثرات لکھیں؟

ج:1۔عاجزی وانکساری 2۔عزت نفس  3۔وسعت نظر  4۔ استقامت وبہادری 5۔تقویٰ اور پرہیز گاری     6۔رجائیت اور اطمئنان قلب

س: عقیدہ آخرت کے انسانی زندگی پر اثرات لکھیں؟

ج: 1۔ نیکی سے رغبت اور بدی سے نفرت 2۔بہادری اور سرفروشی 3۔صبر وتحمل 4۔مال خرچ کرنے کا جذبہ 5۔ احساس ذمہ داری

س: شرک کا  لغوی و اصطلاحی مفہوم قلم بند کیجیے؟

ج: لغوی معنی :          برابری ،حصہ داری ، شراکت داری اور ساجھا پن

اصطلاحی معنی :           “اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا صفات کے تقاضوں میں کسی اور کو اس کا حصہ دار  یا  ساجھی ٹھہرانا شرک کہلاتا ہے”

س: توحید اور شرک کی اقسام لکھیے؟

ج:توحید کی اقسام : 1۔ توحید فی الذات 2۔ توحید فی الصفات 3۔ صفات کے تقاضوں میں توحید

شرک کی اقسام : 1۔ شرک فی الذات 2۔ شرک فی الصفات 3۔ صفات کے تقاضوں میں شرک

توحید فی الذات:       اللہ تعالیٰ کی ذات اورحقیقت میں کوئی بھی اس کا حصہ دار نہیں،نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ اولاد، وہ اکیلاہے اور لاشریک ہے ۔

توحید فی الصفات:      اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے لحاظ سے یکتا اور بے مثل ہے ، اس کی صفات کاملہ جیسی صفات اور کسی  میں بھی موجود نہیں ہیں ۔

(وضاحت: اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی صفات ابدی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی صفات غیر محدود اور کامل ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر کسی کی صفات اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہیں، وہ ابدی نہیں ہیں اور نہ ہی غیر محدود ہیں۔ )

صفات کے تقاضوں میں توحید:    جب اس کائنات کا خالق ،مالک اور حاجت روا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے اور تمام مخلوقات اسی کی محتاج ہیں  تو   تمام مخلوقات پر لازم ہے کہ وہ  صرف  اللہ کی عبادت کریں اور جو کچھ  مانگنا ہو اسی سے مانگیں۔

ذات میں شرک:      اللہ تعالیٰ کی ذات اور حقیقت میں کسی دوسرے کو اس کے برابر یا حصہ دار سمجھنا، یااس کو کسی کی اولاد یا کسی کو اس کی اولا د سمجھنا۔

صفات میں شرک :    اللہ تعالیٰ  کی صفات  جیسی صفات کسی دوسرے میں ماننا ،یا کسی “غیر اللہ ” کو قادر مطلق  اور ازلی وابدی تصور کرنا۔

صفات کے تقاضوں میں شرک:  اللہ کے علاوہ کسی اور  کی عبادت / پوجا کرنا، کسی اور کے سامنے جھکنا اور اپنی حاجات و ضروریات کی تکمیل کے لیے کسی اور سے امید لگانایا مانگنا شرک فی العبادات  (صفات کے تقاضوں میں شرک) کہلاتا ہے۔

س: توحید کی اہمیت اور شرک کی مذمت میں ایک ایک آیت (عربی متن اور ترجمہ)تحریر کریں؟

توحید: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4)

ترجمہ: ۔(اے نبیخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّمَ !) آپ فرما دیجیے وہ اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔ اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔

شرک کی مذمت:  إِنَّ اللَّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء

ترجمہ : بیشک اﷲ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور جو گناہ اس کے علاوہ ہے  جس کیلئے چاہے گا، معاف کر دے گا۔

س: کلمہ طیبہ با اعراب تحریر کریں، اور ترجمہ بھی لکھیں؟

 ج:     لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہِ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں)

س: رسول کے لغوی اور اصطلاحی معانی لکھیں ؟

ج: لغوی : پیغام پہنچانے والا

اصطلاحی:” رسول سے مراد وہ عظیم ہستی  ہے جس کو اللہ تعالیٰ  اپنے احکامات اور تعلیمات ،  اپنے بندوں تک پہنچانے کے لئے منتخب فرمائیں”

س:انبیا کرام کی خصوصیات لکھیں؟

ج:1۔ بشریت(انیباء اور رسول انسانوں میں سےہی تھے) 2۔ امانت اور وہبیت 3۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تبلیغ 4۔ معصومیت  5۔ واجب اطاعت  (ان کی اطاعت کرنا ضروری ہوتا ہے )

  • ٭   رسالت کے لغوی معانی “پیغام پہنچانا” کے ہیں ، پیغام پہنچانے والے کو ” رسول  ” کہا جاتا ہے ۔ 
  • نبی کے معانی : 1۔خبر دینے والا ۔2۔ بلند شان والاکے ہیں
  • انبیاء کرام کی تعداد تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔

س: رسالت محمدی ﷺ کی خصو صیات لکھیں؟

ج:1۔عمومیت 2۔پہلی  شریعتوں کا نسخ 3۔ کاملیت 4۔حفاظت کتاب 5۔ سنت نبوی ﷺ کی حفاظت 6۔ جامعیت 7 ۔ ہمہ گیری 8۔ ختم نبوت۔

س:رسول کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ؟

ج:تا کہ : 1۔ رسول اللہ تعالیٰ کے پیغام کو واضح انداز میں لوگوں تک پہنچا دیں ۔2۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر خود عمل کر کے عملی نمونہ پیش کریں ۔

س:منکرین آخرت کے شبہات اور ان کے جوابات لکھیں؟

ج:شبہ نمبر 1:  وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۬ؕ (سورۃ السجدۃ: 10)

ترجمہ: اور  انہوں نے کہا کہ : کیا جب ہم زمین  میں نیست ونابود ہو جائیں گے تو کیا ہمیں نیا جنم دیا جائے گا ؟؟؟؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے اس بات کا جواب یوں دیا : آیت : اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ (سورۃ الروم: 11)

ترجمہ: جس ذات نے پہلی بار پیدا کیا وہی ذات دوبارہ پیدا کرے گی ۔

شبہ نمبر 2: منکرین آخرت کا ایک اعتراض یہ ہے کہ: قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ (سورۃ یٰسین: 78)

ترجمہ: کون زندہ کرے گا ہڈیو ں کو  جب کہ وہ بوسیدہ  ہوچکی ہوں گیں ۔

جواب:  اللہ تعالیٰ نے اس بات کا جواب یہ دیا : آیت  : قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ  ( سورۃ یٰسین: 79)

ترجمہ: آپ کہ دیجیئے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار بنایا ہے۔

شبہ نمبر 3: منکرین آخرت کا یہ اعتراض بھی ہے کہ: اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ (سورۃ الانعام : 29)

ترجمہ: ہمارے لئے یہ دنیا ہی کی زندگی ہے  اور   ہم  دوبارہ زندہ نہ ہوں گے۔

جواب: اللہ تعالی ٰ نے اس کا یہ جواب دیا ہے : 1۔آیت:وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ (سورۃ البقرۃ: 28)

ترجمہ: تم مردہ تھے ،پس تم کو زندہ کیا ۔ پھر وہ تم کو مارے گا پھر وہ تم کو زندہ کرے گا ،پھر تم اس کی لوٹائے  جاو گے۔

2۔ آیت: اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (سورۃ المومنون:115)

ترجمہ: کیا  تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تم کو  بے مقصد ہی  بنایا ہے اور  تم کو ہماری طرف نہ لوٹایا جائے گا ؟

س:  ظلم عظیم سے کیا مراد ہے ؟                                   ج: قرآن کریم میں شرک کو ظلم عظیم کہا گیا ہے ۔

س: ملائکہ اور اٰلھۃ کا واحد کیا ہے ؟                              ج:ملائکہ کا واحد  : ملک                          اور  الھۃ کا واحد: الٰہ ہے

س:وحی کے لغوی اور اصطلاحی معانی لکھیں؟                                           ج: لغوی: خفیہ اشارہ ، چپکے سے دل میں بات ڈال دینا

اصطلاحی:”وحی سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ خاص پیغام ہے جو انبیا کرام اور رسولوں پر فرشتہ کے ذریعے یا براہ راست نازل ہوتا رہا”،جیسے: قرآن مجید

س:نزول وحی کی مختلف صورتیں لکھیں؟

ج:۱۔اللہ تعالیٰ کا انبیا سے براہ راست کلام کرنا    ۲ ۔فرشتے کے ذریعہ وحی    ۳۔دل  پر کسی بات کا القا کرنا   ۴۔فرشتے کا انسانی شکل میں آنا   ۵۔انبیا کے خواب

س: فرشتوں پر ایمان لانے سے کیامراد ہے ؟ مشہور فرشتوں کے نام اور ان کی ذمہ داریاں لکھیں؟

ج: فرشتوں پر ایمان لانے سے مرادیہ ہے کہ : “فرشتے اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام منظم انداز میں چلانے کے لئے مختلف فرشتو ںکی مختلف ذمہ داریاں لگا رکھی ہیں “

حضرت جبرائیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انبیا کرام پر وحی لے کر نازل ہونا (یہ تمام فرشتوں کے سردار ہیں)

حضرت میکائیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بارش برسانا ، ہوائیں چلانا اور لوگوں کے لئے رزق کا بندوبست کرنا

حضرت عزرائیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاندارو ں  کی روحیں قبض کرنا ، ان کو مَلَکُ المَوتِ (موت کا فرشتہ) بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت اسرافیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حکم سے صور پھونکیں گے ۔

(صور سے مراد ایک بلند اور خوف  ناک آواز ہے جوقیامت کے آغاز میں ساری کائنات  میں سنائی  دی جائے گی)

 منکر اور نکیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دو فرشتے ہیں جو قبر میں سوال وجواب کرتے ہیں۔

کراما کاتبین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ فرشتے ہیں جوانسانوں کے دائیں اور بائیں کندھے پر موجود ہیں اور انسانوں کے اقوال و اعمال کو نوٹ کرتے ہیں۔

رضوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ فرشتہ جنت کا منتظم ہے ۔

 مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بڑا سخت مزاج فرشتہ ہے جو جہنم کا داروغہ (چوکیدار) ہے۔

س: دنیا اور آخرت کے لغوی معانی لکھیں؟ نیز عقیدہ آخرت کا مفہوم تحریر کریں؟

ج: دنیا کے معانی :  قریب کی چیز   ،    آخرت کے معانی  : بعد میں آنے والی چیز

 عقیدہ آخرت کا اصطلاحی مفہوم: “انسان مرنے کے بعد ہمیشہ کے لئے فنا نہیں ہوتا بلکہ اس کی روح باقی رہتی ہے ، وقت آنے پے اللہ تعالیٰ اس کی روح

کو دوبارہ جسم میں منتقل کرے گا ، اس کا حساب کتا ب ہو گا اور اس کو اس کے اچھے اعمال کی جزا (جنت) اور برے اعمال کی سزا(جہنم ) دی جائے گی۔”

س:عقیدہ ختم نبوت سے کیا مراد ہے ؟ ختم  کے لغوی معانی لکھیں؟

ج:عقیدہ ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ “انبیا کا جو سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا تھا وہ حضرت محمد ﷺ پر ختم ہو گیا ، آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں  اور آپ ﷺ کے بعد کوئی سچا نبی اور رسول نہیں آ سکتا” (اسی وجہ سے آپﷺ کو خاتم النبیین  کہا جاتاہے)۔

ختم کے لغوی معانی : مہر لگانے  ،بند کرنےکے ہیں۔

س: ختم نبوت کے بارے قرآن کی آیت اور نبی مکرم ﷺ کی حدیث ؟

ج: آیت : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ (سورۃ الاحزاب: 40)

 ترجمہ: محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں  اور ہاں وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نبیوں میں سے آخری نبی ہیں ۔

حدیث: اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ (سنن ترمذی:2219)                ترجمہ:میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

حدیث : “میری اور پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے  جیسے کسی نے کوئی حسین وجمیل عمارت بنائی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ، وہ اینٹ میں ہوں”(حوالہ:صحیح بخاری)                                                (یعنی نبوت کی عمارت اب بالکل مکمل ہوچکی ہے کسی نئے نبی کی کوئی گنجائش اور ضرورت نہیں ہے،آپ ﷺ کے بعد جس نے بھی نبی ہونے کا دعویٰ کیا وہ جھوٹا اور فریبی شخص ہے۔)

— حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں کچھ لوگوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا جو کہ جھوٹا دعویٰ تھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف باقاعدہ جہاد کیا

س:قرآن کریم اور سابقہ آسمانی کتب کی تین مشترکہ تعلیمات کا تذکرہ کریں؟   ج: ۱۔عقیدہ توحید                  ۲۔ عقیدہ رسالت                                             ۳۔عقیدہ آخرت

س: کن  پیغمبروں پر صحیفے نازل ہوئے ؟          ج:۱۔حضرت ابراہیم علیہ السلام                    2۔ حضرت آدم  علیہ السلام 3۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام

س:رسول اور نبی میں کیا فرق ہے؟

ج: رسول اور نبی دونوں اللہ تعالیٰ کے منتخب شدہ بندے ہوتے ہیں ، دونوں پر وحی نازل ہوتی ہے ، فرق یہ ہے کہ ہر رسول پر باقاعدہ ایک شریعت نازل ہوتی رہی ہے  جبکہ نبی پر الگ سےکوئی نئی کتاب یا شریعت نازل نہیں ہوتی  تھی بلکہ وہ اپنے سے پہلے رسول کی تعلیمات کی تبلیغ واشاعت کا کام کرتا تھا۔

س:ملائکہ کس کی جمع ہے، اس کا معنی لکھیں ؟                ج: ملائکہ ، مَلَکُ کی جمع ہے یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی  “قاصد ” کے ہیں ۔

س: وجود باری تعالیٰ پر ایک عقلی دلیل دیں؟

ج: جس طرح ایک گھر ،بنانے والے کے بغیر اور ایک گھڑی کسی گھڑی ساز کے بغیر نہیں بن سکتی تو اتنی بڑی کائنات کسی بنانے والے کے بغیر کیسے بن سکتی ہے ؟ کائنات کا وجود اور اس کا منظم طریقے سے چلنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کو بنانے والی اور چلانے والی کوئی عظیم ہستی موجود ہے ۔

س:دنیا کا پہلا انسان اور پہلا نبی کون تھا اور اس کا عقیدہ کیا تھا؟

ج: دنیا کہ پہلا انسان : حضرت آدم علیہ السلام تھے ، وہی پہلے نبی بھی تھے ۔ آپ کا عقیدہ ، عقیدہ توحید تھا۔

س: الہامی کتب کے نام لکھیے نیز وہ کن پر نازل ہوئیں؟

ج:            1۔تورات : حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی          2۔زبور: حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی                 3۔انجیل: حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی         4۔قرآن مجید: حضرت محمد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا

س: حفاظت قرآن مجید کے حوالے سے ایک آیت اور اس کا ترجمہ لکھیے۔

ج:آیت: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ بے شک ہم نے ہی یہ ذکر(قرآن) نازل کیا ہےا ور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

س: قرآن مجید کی چار خصوصیات لکھیے۔

محفوظ کتاب، جامع کتاب، عالمگیر کتاب، زندہ زبان والی کتاب وغیرہ (مزید دیکھیے درسی کتاب باب اول)

س: قرآن مجید کتاب اعجاز ہے ، اس کی وضاحت کریں۔

ج: دیکھیے درسی کتاب ، باب اول

باب دوم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارکان اسلام سے مراد دین  اسلام کے وہ بنیادی اصول اور  اعمال  ہیں جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے۔

س: اسلام کے بنیادی ارکان کتنے اور کون کون سے ہیں؟

ج: اسلام کے بنیادی ارکان 5 ہیں : 1۔ کلمہ شہادت کا اقرار               2۔ نماز ادا کرنا           3۔ روزے رکھنا         4۔ زکوٰۃ ادا کرنا         5۔ حج کرنا

س: کلمہ شہادت میں کن دو چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ؟

ج: کلمہ شھادت میں : توحید اور رسالت کا تذکرہ ہے۔

س: کلمہ شہادت اور اس  کا ترجمہ لکھیے۔

اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ

ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد  اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

س:دین کا ستون  اور دین کی کوہان کس کو کہا گیا ہے ؟

ج:نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے اور جہاد کو دین کی کوہان کہا گیا ہے ۔

س: صوم ، صلٰوۃ ، حج ، زکوٰۃ اور  کے لغوی معانی لکھیں؟

ج:صوم: رک جانا ۔                   صلوٰۃ: دعا  کرنا/نماز               حج:زیارت کا ارادہ کرنا ۔                     زکوٰۃ: ۱۔پاک کرنا ۲۔اضافہ کرنا ۔

س: بے اثر روزوں اور بے اثر نمازوں سے کیا مراد ہے ؟

ج: بے اثر روزوں اور نمازوں سے مراد وہ  ہیں جن کا مقصد اللہ کی رضا کی بجائے دکھاوا ہو اور وہ باقاعدگی ، خشوع وخضوع اور حضوری قلب سے خالی ہوں

۔۔۔۔۔۔نبی مکرم ﷺ نے رمضان کو  شھر مواساۃ یعنی غم گساری /غم خواری کا مہینہ قرار دیاہے ۔

۔۔۔۔۔۔ کسی شخص کے مال پر زکوٰۃ اس وقت فر ض ہوگی جب اسے جمع کئے ہوئے پورا سال گزر چکا ہو۔

۔۔۔۔۔ نبی مکرم ﷺ نے حج مبرور(حج مقبول ) کو سب سے افضل جہاد قرار دیا ہے ۔

—– حاجی  دوران حج مقامِ منیٰ پر اپنے ازلی دشمن شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں۔

س: حج ، نماز ، روزہ اور زکوٰۃ کے فوائد لکھیں؟

ج:حج کے فوائد: 1۔حج کرنے سے  انسان کو  روحانی سکون اور ایمان و تقویٰ کی دولت حاصل ہوتا ہے ۔2۔اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں 3۔ گناہوں کی معافی

 4۔حج میں دنیا کے ہر کونے اور گوشے سے لوگ جمع ہوتے ہیں  اور مسلمانوں کے اتحادا ور قوت کا اظہار ہوتا ہے ۔ 5  ۔ دوسرے ممالک سے آنے والے لوگوں سے ملاقات سے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ ملتا ہے ۔6  ۔ حجاج خرید وفروخت کے ذریعہ تجارتی اور اقتصادی فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

نماز کے فوائد : 1۔ نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے ۔ 2۔ نماز سے دلی  سکون اور اطمئنان حاصل ہوتاہے 3۔ اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں

 4۔ دن پانچ بار لوگوں دے یوں اکھٹا ہونے سے افراد معاشرہ کے درمیان محبت پید اہوتی اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت حاصل ہوتی رہتی ہے  5۔باجماعت نماز اور جمعہ وعیدین سے مسلمانوں میں اجتماعیت کو شعور پید ہوتا ہے ۔6۔ نماز میں ہر امیر ، غریب اکھٹے کندھے سے کندھا اور پاوں سے

 پاوں   ملا کر کھڑے ہوتے ہیں اور یوں امیر وغریب کا فرق ختم ہو کر عملی مساوات کی فضا پیدا ہوتی ہے۔7۔ نظم  و ضبط پید ہوتا ہے ۔

روزہ کے فوائد:1۔ روزہ سے جب انسان خود سارادن بھوکا رہتا ہے تو اس سے اس کو غریب و محروم لوگوں کی بھوک ، پیاس اور ان کی محرومی کا اندازہ ہوتا ہے۔ 2۔ انسان میں قناعت اور صبر کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ۔3۔ معدہ خالی رہنے سے جسمانی صحت ملتی ہے ۔4۔اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں ۔5۔ روزہ انسان کو گناہوں سے روکے رکھتا ہے ۔

زکوٰۃ کے فوائد:1۔ نظام زکوٰۃ کے ذریعے ہم سودی نظام سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔ 2۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال پاک ہو جاتا ہے ۔3۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال میں اضافہ ہوتا ہے ۔ 4۔ غریبوں اور تنگ دست لوگوں کی مالی معاونت ہو جاتی ہے ۔5۔دولت ایک جگہ جمع ہونے کی بجائے سرمایہ گردش میں رہتاہے ۔

س: جہاد کے لغوی اور اصطلاحی معانی لکھیں؟، جہاد کی اقسام کے نام لکھیں؟ نیز بتا ئیں کی کس چیز کو دین کی چھت  یا   کوہان  کہا گیا ہے ؟

ج:لغوی معانی : کوشش کرنا /جدوجہد کرنا

اصطلاحی معنی:  اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ ،حفاظت وسربلندی اور امت مسلمہ کے  دفاع کے لئے  کوشش کرنا جہاد کہلاتا ہے ۔

اقسام :(جن چیزوں کے ذریعے جہاد کیا جائےگا) 1۔ جہاد بالمال 2۔ جہاد بالقلم 3۔ جہاد باللسان 4۔جہاد بالسیف

(جہاد بالسیف کی اقسام:1: مدافعانہ جہاد ۔ 2: مصلحانہ جہاد)

اقسام: (جن کے  خلاف جہاد کیا جائےگا) 1۔ جہاد بالنفس(نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد) 2۔ شیطانی اور طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد3۔ ظلم کے خلاف

س: جنگ اور جہاد میں کیافرق ہے؟

ج:وہ لڑائی جو دنیاوی مقاصد کے لئے لڑی جائے وہ جنگ کہلائے گی ، جبکہ وہ جدو جہد اور کوشش جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی سر بلندی کے لئے  کی جائے وہ جہاد کہلاتی ہے۔

س: پہلی مسلم ریاست کی بنیا کہاں رکھی گئی ؟                    ج:مدینہ میں ، جس کا پرانا    نام یثرب تھا۔

س: حقوق اللہ اور حقوق العباد سے کیا مراد ہے ؟  ج:حقوق اللہ سے مراد : اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں اور حقوق العباد سے مراد : بندوں کے حقوق ہیں ۔

س:کن دو صورتوں میں غیبت جائز ہے ؟

ج:۱۔ اگر کوئی مظلوم  اپنے اوپر ہونےوالے ظلم کےبارے  کسی کو آگاہ کرے اور ظالم کی باتیں بتائے تو جائز ہے۔

۲۔کسی دھوکہ باز شخص کے شر سے لوگوں کو بچانے کے لئے ان کو اطلاع دینا یا آگا ہ کرنا۔

س:تقویٰ کے لغوی اور اصطلاحی معانی تحریر کریں؟

ج:لغوی : 1۔ڈرنا 2۔ بچنا

اصطلاحی: تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کو برائیوں سے روکتی اور نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔

  • ضبط نفس: اپنی خواہشات پر کنٹرول حاصل کرنا اور ان کو احکام الہی کے تا بع کرنا۔
  • خواہشات نفس کے خلاف جہاد کو “جہاد اکبر” کہا جاتا ہے ۔

س: جھوٹ کے نقصانا ت اور سچائی کے فوائد لکھیں؟ نیز اس بارے ایک حدیث بھی لکھیں؟

ج:جھوٹ کے نقصانات: 1۔ جھوٹ ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے ۔2۔ معاشرے میں جھوٹے شخص کی کوئی عزت باقی نہیں رہتی ۔3۔اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں  ۔ 4۔جھوٹے فرد کا اعتبار اور اعتما د اٹھ جاتا ہے ۔

سچ کے فوائد:1۔ سچ نجات دلاتا ہے  ۔ 2۔سچ بولنے والے کی اللہ تعالیٰ خصوصی مدد کرتے ہیں ۔  3۔ اللہ تعالیٰ راضی ہوجاتے ہیں۔   4۔معاشرے میں سچے فرد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ 5۔سچ انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابیاں دلاتا ہے۔

س: معاشرے میں لاقانونیت کی وجوہات ؟

ج:           1۔ خود غرضی اور مفاد پرستی                       2۔اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھنے کی گھٹیا سوچ

س:انسان کے تین باپ کون کون سے ہیں ؟

ج:           1۔ حقیقی والد             2۔ سُسر                    3۔ استاد

س: ہمسایہ کی اقسام کتنی اور کون کون سی ہیں؟

ج: ہمسایہ کی اقسام میں سے تین زیادہ اہم ہیں:

 1۔ وہ ہمسایہ جو رشتہ دار بھی ہو 

2۔ غیر رشتہ دار ہمسایہ  خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو

3۔ہم جماعت ، ہم سفر یا ہم پیشہ افراد یعنی جن سے عارضی تعلق ہو۔

س:حسن معاشرت سے کیا مراد ہے ؟

ج:   معاشرے میں باعزت اور اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنا  ،اپنی صلاحیتو ں کو معاشرے کی ترقی ، ماحول کو خوشگوار بنانے اور افراد معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے صرف کرنا حسن معاشرت کہلاتا ہے ۔

س:نبی مکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق  سب سے بڑا گنا ہ کون سا  ہے ؟

ج: نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق سب سے بڑا گناہ  شرک ہے ، اس کے بعد سب سے بڑا گنا ہ والدین کی  نافرمانی ہے اور اس کے بعد سب سے بڑا گناہ اپنی اولاد کو بھوک و افلاس کے ڈر سے قتل کرنا ہے۔

  • ۔۔۔۔۔۔صلہ رحمی کے بارے آیت: وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ  (بنی  اسرائیل : 26) ترجمہ: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو۔
  • ۔۔۔۔۔۔قطع رحمی کے بارے حدیث : لا یدخل الجنۃ قاطع (صحیح بخاری)     ترجمہ: رشتہ داروں سے تعلق ختم کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا ۔

س:منافق کی  علامات لکھیں؟

ج:۱۔گفتگو کرتے وقت جھوٹ بولتاہے ۲۔وعدہ خلافی کرتاہے ۳۔امانت میں خیانت کرتا ہے ۴۔جب جھگڑاکرتا ہے تو گالیاں دیتا ہے۔

س: منافق کی اقسام ؟

ج:منافق کی دو اقسام ہیں : 1۔ اعتقادی منافق     2۔ عملی منافق

اعتقادی منافق: وہ شخص جو دل سے اسلام کی حقانیت اور سچائی کو قبول نہ کرے اور صرف ذاتی مفاد یا ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کی خاطر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے(اعتقادی منافقین نے مدینہ طیبہ میں مسجد نبوی کے مقابلے میں مسجد ضرار تعمیر کی تھی تا کہ مسلمانوں میں اختلاف ڈالا جا سکے )

عملی منافق: وہ شخص جس نے دل وجان سے اسلام کو قبول کرلیاہو لیکن اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں اس سے سستی اور کوتاہی ہو رہی ہو تو ایسے مسلمان کو عملی منافق کہا جائے گا۔

س: عشر سے کیا مراد ہے ؟ نیز زکوٰۃ اور عشر میں فرق واضح کریں ؟

ج: زکوٰۃ:ایک مالی عبادت ہے جس میں ہر صاحب نصاب مسلمان  ہر سال  اپنے  کل مال کا اڑھائی فیصد مستحقین زکوٰۃ کے لیے ادا کرتا ہے ۔(یہ رقم اسلامی حکومت کو ادا کی جائے گی اور کسی مملکت میں زکٰوۃ کا نظام نہ ہو تو زکٰوۃ دینے والا اس رقم کو خود ہی اپنے علاقے کے غربا میں تقسیم کردے گا)

  عُشر:        ایک مالی عبادت ہے جس میں ہر مسلمان اپنی زرعی پیداوار کا دسواں حصہ مستحقین زکوٰۃ  کی امداد کے لئے دیتا ہے۔

فرق:       زرعی پیداوار سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو عشر کہا جاتا ہے اور باقی اموال مثلا مال تجارت، سونا، چاندی ، نقدی ، اونٹ ، بکری اور گائے وغیرہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔

س:نصاب زکوٰۃسے کیامراد ہے ؟سونے، چاندی کا نصاب زکوٰۃ لکھیں؟

ج: نصاب زکوٰۃ سے مراد مال کی وہ خاص مقدار ہے جس کے پورا ہونے پر مالدار شخص پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہو جاتا ہے ۔

سونے کانصاب: ساڑھے سات تولے سونا،    چاندی کا نصاب:ساڑھے باون تولے چاندی،

مال تجارت اورنقد رقم کا نصاب:سونے یا چاندی کے نصاب کے برابر رقم

س:مصارف زکوٰۃ سے کیا  مرادہے ، مصارف زکوٰۃ کتنے ہیں؟ اور کون کون سے ہیں؟

ج:مصارف زکوٰۃ سے مراد وہ جگہیں ہیں جہاں زکوٰۃ کا مال خرچ کیا جائے گا۔

 یہ کل آٹھ ہیں :          1۔فقرا                     2۔مساکین               3۔ محکمہ زکوٰۃ کے ملازمین           4۔ نو مسلموں کی تالیف قلب کے لئے

 5۔غلاموں  کو آزاد کرانے کے لئے              6۔ مقروض کے قرض کی ادائیگی کے لئے      7۔فی سبیل اللہ (جہاد اور تبلیغ دین)            

 8۔ مسافر (ضرورت مند مسافر)

س: زکوٰۃ کی شرح سے کیا مراد ہے ؟

ج:شرح زکوٰۃ سے مراد ہے مال کی  وہ خاص مقدار ہے جو زکوٰۃ فرض ہونے پر بطور زکوٰۃ  ادا کی جاتی ہے ، جیسے :سونے کی شرح زکوٰۃ ؛ اڑھائی فیصد ہے

س: ادائیگی زکوٰۃ کے چار اصول بیان کریں ؟

ج:1۔ زکوٰۃ صرف مسلمانوں سے لی جائے گی ۔

2۔ایسے رشتہ دار جن کی کفالت زکوٰۃ دینے والے کے ذمہ فرض ہو ، ان کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی ( ماں ، باپ ، بیٹا ، بیٹی ، شوہر ،بیوی)۔

3۔زکوٰۃ ادا کرتے وقت یہ بتا نا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے ۔

4۔زکوٰۃ پہلے قریبی رشتہ داروں اور اہل علاقہ کو دی جائے گی ، ضرورت پوری ہونے پر دیگر علاقوں میں بھیج دی جائے گی ۔

س:غیبت اور بہتان کی تعریف کریں اور فرق واضح کریں؟

ج: غیبت: کسی شخص کی خامی اس کی غیر موجودگی میں لوگوں کے سامنے بیان کرنا غیبت کہلاتاہے۔

بہتان: کسی شخص پر اس کی موجودگی یا غیر موجودگی میں کسی برائی کے ارتکا ب کا جھوٹا الزام لگانا بہتان یا اتہام  یا تہمت کہلاتا ہے۔

فرق: جس شخص کی خامی بیان کی جارہی ہے تودیکھا جائےکہ  اگر واقعتا اس شخص میں وہ خامی موجود ہے تو یہ فعل غیبت کہلائے گا اور اگر اس میں وہ خامی موجود بھی نہیں ہے یا اس نے وہ کام کیا ہی نہیں جس کی اس کی طرف نسبت کی جارہی ہے تو یہ بہتان یا اتہام کہلائے گا۔

س:انسان حسد سے کیسے بچ سکتاہے ؟

ج:انسان قناعت اور ہر حال میں شکر باری  تعالٰی کےذریعہ حسد سے بچ سکتا ہے۔

س:دیانت داری کے متعلق ایک آیت لکھیں؟

ج:آیت : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا (سورۃ النساء:58)

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ تم کو حکم  فرماتا ہے  کہ امانتیں ، امانت والوں کو ادا کر دو۔

س: ایثار سے کیا مراد ہے ؟

ج:خود تکلیف برداشت کر کے اپنی ضرورت کی چیز کسی دوسرے ضرورت مند کو دینا  ایثار کہلاتا ہے۔

س:جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان کے بارے قرآن نے کیا وعید سنائی ہے ؟

ج: وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ

ترجمہ:اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ، تو آپ ان کو درد ناک عذاب کی اطلاع دے دیں۔

س:حق اور فرض سے کیا مراد ہے فرق واضح کریں ؟

حق: ایک انسان کے ذمے دوسرے انسان کے لئے جو کچھ کرنا / ادا کرنا ضروری ہے وہ اس کا فرض ہے اور  یہ دوسرے انسان کا حق ہے۔

س: رشتہ دار ، ہمسایہ ، خاوند ، بیوی ، والدین اور اولاد: ہر ایک کے 4-4حقوق لکھیں؟

رشتہ دار:۱۔صلہ رحمی ۲۔حسن سلوک ۳۔مالی امداد ۴۔ وراثت میں حصہ ۵۔تحائف دینا

ہمسایہ:۱۔حسن سلوک ۲۔مالی امداد ۳۔خوشی وغمی میں شرکت ۴۔مال کی حفاظت ۵۔ عزت وآبرو کی حفاظت

خاوندکے حقوق(بیوی کے فرائض):۱۔  اطاعت ۲۔عزت کی حفاظت ۳۔قناعت وشکر گزاری ۴۔اولاد کی پرورش اور اچھی تربیت ۵۔خاوند کے رشتہ داروں سے حسن سلوک

بیوی کے حقوق(خاوند کے فرائض):۱۔حسن سلوک۲۔عزت واحترام۳۔مشاورت۴۔حق مہر ۵۔نان ونفقہ یعنی ٖضروریات زندگی کی فراہمی۔

والدین کے حقوق(اولاد کے فرائض):۱۔حسن سلوک ۲۔اطاعت وفرمانبرداری ۳۔ بڑھاپے میں سہارا ۴۔مالی تعاون ۵۔وفات کے بعد دعائے مغفرت

اولاد کے حقوق(والدین کے فرائض):۱۔محبت وشفقت  ۲۔زندہ رہنے کا حق ۳۔ تعلیم وتربیت ۴۔اولاد کے درمیان عدل  ۵۔ شادی میں مشاورت

اساتذہ کے حقوق(طلبا کے فرائض):۱۔اطاعت وفرمانبرداری ۲۔ہدایات پر عمل ۳۔بات کو توجہ سے سننا ۴۔عزت واحترام ۵۔دعائے مغفرت

طلبا کے حقوق(اساتذہ کے فرائض):۱۔ محبت وشفقت ۲۔ اچھی تربیت ۳۔ مناسب راہ نمائی ۴۔تعلیمی سہولیات کی فراہمی۵۔مالی معاونت۔

غیر مسلموں کے حقوق(اسلامی ریاست کے فرائض):۱۔جان کی حفاظت ۲۔مال کی حفاظت ۳۔عزت و ناموس کی حفاظت ۴۔عبادت کی اجازت ۵۔معاہدوں کی پابندی

س:کسب حلال کے متعلق ایک آیت اور اس کا ترجمہ لکھیں؟

آیت:” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ (البقرۃ:۱۷۲) اے ایمان والو! ہم نے تم کو جو پاک چیزیں عطا کی ہیں ان میں سے کھاو۔

س:ایفائے عھد کے متعلق ایک آیت اور ایک حدیث مع ترجمہ لکھیں؟

آیت:” يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل)

حدیث: وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہ(سنن بیھقی-۱۲۶۹۰)

س: عدل اور احسان کے لغوی اور اصطلاحی معانی لکھیں؟

ج: عدل کے لغوی معنی : برابری کے ہیں         اصطلاح میں عدل سے مراد ہے کہ جس کسی کا جتنا حق بنتا ہے اتنا اس کو دے دینا

س:چار محاسن اخلاق اور چار رزائل اخلاق تحریر کریں؟

ج: محاسن اخلاق/اخلاق حسنہ(انسان کی پختہ اچھی عادات):            1۔ دیانت داری        2۔ایفائے عھد           3۔ سچائی   4۔ عدل وانصاف

 5۔قانون کا احترام کرنا               6۔ کسب حلال           7۔ایثار وقربانی کا جذبہ

رزائل اخلاق/اخلاق رزیلہ(انسان کی بری عادات):    1۔ جھوٹ 2۔ غیبت                  3۔ منافقت              4۔ تکبر    5۔ حسد

*** ناجائز زرائع آمدن:            رشوت ستانی، بد دیانتی، سود خوری،چوری،ڈاکہ زنی ،ذخیرہ اندوزی، فریب دہی اور سٹے بازی یعنی جوا کھیلنا

س:پڑوسی کے حقوق کے متعلق ایک حدیث لکھیں؟

ج:٭ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ جَارَہُ :جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت  پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے (بخاری :6019)

    ٭           وہ شخص مومن نہیں جو اپنے ہمسائے کی بھوک سے بے نیاز ہوکر شکم سیر ہو

س:قرآن مجید میں مذکور نیک بیویوں کی  صفات تحریر کریں ؟

ج: فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ (سورۃ النساء: 34) ترجمہ:  پس جو نیک (بیویاں ) ہیں وہ   (1)خاوند کی اطاعت کرنے والی  اور(2)خاوند کی غیر موجودگی میں (اس کی عزت و مال کی) حفاظت کرنے والی  ہوتی ہیں۔

س:منافقت کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم بیان کریں ؟

لغوی: منافقت عربی زبان کے لفظ (نفق)سے نکلاہے جس سے مراد    دو  راستوں والا سوراخ یا بل ہے۔

اصطلاحی:منافق:وہ شخص جس نےدنیاوی مفاد کے حصول کی خاطر بظاہر تو اسلام  قبول کرلیاہو لیکن دل سے اسلا‏م کی حقانیت اور سچائی کو تسلیم نہ کرتا ہومنافق کہلاتا ہے ۔

منافقت:بظاہر اسلام قبول کرنے کا دعویٰ کرنا لیکن دل سے تصدیق نہ کرنا منافقت ہے۔ انسان کے ظاہر وباطن میں تضاد منافقت ہے۔

س: تکبر سے کیا مراد ہے ،اس کا مفہوم واضح کریں ، اور لکھیں کہ تکبر کس کو لائق ہے؟

ج:تکبر سے مراد اپنےآپ کو دوسروں کے مقابلے میں بڑا اور بلند مقام ومرتبہ والا سمجھنا ۔ بڑائی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لائق ہے۔

س:احرام کس کو کہتے ہیں ؟ مناسک حج سے کیا مراد ہے ، چار مناسک حج تحریر کریں ؟

ج: سفید رنگ کی دو      اَ ن سِلی چادروں پر مشتمل لباس جو حاجی دوران حج زیب تن کرتاہے احرام کہلاتا ہے۔

مناسک حج: سے مراد وہ افعال ہیں جو ایک حاجی دوران حج سر انجام دیتا ہے ۔

مناسک حج:۱۔طواف    ۲۔ حجر اسود کو بوسہ دینا    ۳۔قربانی کرنا   ۴۔ بال کٹوانا یا منڈوانا   ۵۔صفا و مروہ کی سعی کرنا۔

س:صلہ رحمی سے کیا مراد ہے ؟

صلہ رحمی سے مراد  رشتہ داروں سے تعلق اور رشتہ داری کو جوڑنا ہے۔

س: قیامت کے روز پہلا سوال کس بارے کیا جائے گا؟

ج: قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کے بارے سوال کیا جائےگا۔

س: یتیموں کی کفالت کے بارے نبی اکرم ﷺ کا کیا فرمان ہے ؟ حدیث لکھیں؟

ج: انا وکافل الیتم فی الجنۃ ھکذا (بخاری ومسلم)

 ترجمہ: میں(نبی مکرمﷺ) اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں (آپ نے اپنی شہادت اور ساتھ والی انگلی کو جوڑ کر اشارہ فرمایا) اکٹھے ہوں گے

س:حج، زکوٰۃ، روزہ اور نماز کے متعلق ایک ، ایک آیت مع ترجمہ لکھیں؟

ج:1۔ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورۃ الروم: 31) ترجمہ: نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں میں نہ ہو جاو۔

2۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورۃ البقرۃ: 183)  ترجمہ: اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں ۔

3۔ وَ الَّذِیۡنَ یَکۡنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَ الۡفِضَّۃَ وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ(سورۃ التوبۃ:34)    ترجمہ:اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ، تو آپ ان کو درد ناک عذاب کی اطلاع دے دیں۔

4۔ وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ (سورۃ آل عمران: 97)

   ترجمہ: لوگوں پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے بیت اللہ کا حج کریں ، جو بھی (بیت اللہ ) کی طرف سفر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

س: نماز کن کن چیزوں سے روکتی ہے ؟

ج: نماز بے حیائی ، فحاشی اور برے کاموں سے روکتی ہے ۔

س:مولفۃ القلوب یا تالیف قلب سے کیا مراد ہے ؟ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟

ج: کسی کی دل جوئی کرنا،حوصلہ بڑھانا    ، اس سے مراد وہ نو مسلم ہیں جو مالی لحاظ سے کمزور ہوں تو زکوٰۃ فنڈ سے ان کی امدادکی جائے گی۔

س: ایفائے عہد ، عدل وانصاف،احترام قانون  اور ایثار وقربانی کے بارے نبی مکرم ﷺ اور صحابہ کی زندگیوں سے ایک ایک واقعہ لکھیں؟

ج:دیکھیے ٹیکسٹ بک

س: جھوٹ اور سچ کی تعریف لکھیں؟

ج: سچ: جو بات جیسے ہو اس کو اسی حقیقت کے ساتھ بیان کرنا سچ کہلاتا ہے۔

جھوٹ: خلاف حقیقت بات کرنا /بتانا جھوٹ کہلاتا ہے۔

س:حسد سے کیا مراد ہے ؟ حسد کی مذمت بارے حدیث لکھیں؟

ج:لغوی: کسی کا زوال چاہنا

اصطلاحی:ایک انسان کا کسی دوسرے انسان کو اچھی حالت میں دیکھ کر جلنا اور دل میں خواہش کرنا کہ اس کے پاس جو نعمت ہے وہ چھن کر میرے پاس آجائے، یہ حسد کہلاتا ہے۔

س:کون جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا؟                                        

  ج:والدین کا نافرمان

س: غیبت کے لیے کس چیز کی مثال دی گئی ہے ؟

ج: غیبت کرنے والا ایسے ہی جیسے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔

باب سوم

آیت : وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (سورۃ الانبیاء:107) ترجمہ: ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

آیت : لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ(سورۃ الاحزاب: 21) ترجمہ: بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی  میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

س: رسول اکرم ﷺ نے نماز تراویح مسجد میں صرف تین دن کیوں ادافرمائی؟

ج:امت پر شفقت کی وجہ سے ، کیونکہ  رسول اکرم ﷺ کے ذہن مبارک میں یہ خیال آیا کہ کہیں نماز تراویح امت پر فرض نہ کر دی جائے۔

س: مسواک کے بارے رسول اکرم ﷺ کا کیا ارشاد ہے ؟

ج:” اگرامت کو دشواری نہ ہوتی تو میں انہیں ہر نماز سے پہلے مسواک  کرنے کا حکم دیتا” ( صحیح بخاری)

س: گذشتہ امتوں پر نافرمانی اور گناہوں کے سبب کیسے عذاب آئے؟

ج:           کسی قوم کی صورتیں (شکلیں) مسخ (تبدیل )کردی گئیں   ،               کسی پر طوفان کا عذاب آیا            ،               کسی کی بستی الٹ دی گئی

س: نبی اکرم ﷺ سے قبیلہ دوس کر طرف کس صحابی کو  بھیجا؟ اور کس مقصد کے لیے بھیجا؟

ج: حضرت طفیل بن عمرو  -دوسی رضی اللہ عنہ کو۔          تبلیغ اسلام کے مقصد سے

س: اسلام نے عورت کو کیسے عزت دی ؟

ج: اسلام نے عورت کے حقوق وفرائض کا تعین کیا اور اس کو ماں ، بیٹی اوربیوی   تینوں حیثیتوں سے عزت عطا کی۔

س:رسول اکرم ﷺ کی یتیموں پر شفقت کے بارے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا نے کونسا واقعہ بیان کیا؟

ج:دیکھیں ٹیکسٹ بک کا صفحہ نمبر: 50

س: رسول اکرم ﷺ بچوں کے لئے رحمت تھے اس بارے سیرت رسول ﷺ سے ایک واقعہ بیان کریں ؟

ج: دیکھیں ٹیکسٹ بک کا صفحہ نمبر: 51

س: رشتہ مواخات سے کیا مراد ہے ؟

ج:           رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر جب مدینہ تشریف لےگئے تو وہاں آپ ﷺ نے مہاجرینِ مکہ اور انصارِ مدینہ  کے درمیان “رشتہ مواخاۃ “قائم کیا۔یعنی بھائی چارے کا رشتہ قائم کیا۔

  • اخوت:            “اخ” کا مطلب ہے “بھائی”        اخوت کا مطلب ہے”بھائی چارہ”،آپس میں بھائی بھائی بن جانا۔

س: تین غیر عرب صحابہ کرام کے نام لکھیں؟

ج: 1۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ 2۔ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ 3۔ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ

س: صبر کے لغوی اور اصطلاحی معانی تحریر کریں؟                                         ج:     لغوی معانی:برداشت کرنا،  روکنا

   اصطلاحی: اپنے نفس کو خوف اور گھبراہٹ سے روکنا اور حق کی راہ میں آنےوالی مصائب ، مشکلات اور تکالیف کو برداشت کرنا۔

س: رسول اکرم ﷺ کی زندگی سے صبرکی مثال دیں؟

ج: ٭نبی مکرم ﷺ ایک دن بیت اللہ کے پاس نماز ادا فرما رہےتھےکہ آپ  ﷺکی سجدہ کی حالت میں عقبہ بن ابی معیط نے ابوجہل کے اکسانے پر اونٹ کی اوجھڑی  آپ ﷺ کی پشت مبارک پر ڈال دی اور مشرکین زور زور سے ہنس کر مذاق اڑانے لگے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کو جب پتہ چلا تو انہوں نے فورا آکر آپ ﷺ سے اوجھڑی کو ہٹایا ،اور کفار کو بددعا دی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیٹی صبر سے کام لو۔

٭ رسول اکرم ﷺ کا چچا ابولہب لوگوں کو کہتا کہ آپ ﷺ (معاذاللہ) دیوانہ  اور پاگل ہیں ، اسی طرح ابولہب کی بیوی “ام جمیل” آپﷺ کے راستے میں کانٹے بچھاتی  جس سے آپ ﷺ کے پاوں مبارک زخمی ہوکر لہو لہان ہو جاتے لیکن آپ نے کبھی ان کے لئے بدعا نہ کی۔

٭نبوت کے ساتوں سال محرم کے مہینے میں مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کے خاندان بنو ہاشم کا بائیکاٹ کر کے شہر سے نکال دیا اور آپ ﷺ اپنے قبیلہ کے لوگوں کےساتھ تین سال تک شعب ابی طالب (ابو طالب کی گھاٹی)میں محصور (قید) رہے اس دوران  آپ ﷺ نے بہت تکالیف برداشت کیں اور صبر سے کا م لیا۔

س: استقلال کا مفہوم واضح کریں؟

ج:لغوی : استحکام  2۔ مضبوطی                                                                                             

ج: ہر قسم کی مشکلات اور مصائب کے باوجود  حق  بات پر قائم اور ثابت قدم رہنا استقلال کہلاتا ہے۔

س: شعب ابی طالب میں محصوری سے کیا مراد ہے ؟

ج:مشرکین مکہ نے نبوت کے ساتویں سال محرم الحرام کے مہینہ میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے سارے خاندان سے بول چال اور لین دین بند کر دیا ، اس وجہ سے بنو ہاشم کا پورا خاندان تین سال تک مکہ شہر سے باہر ایک پہاڑ کی گھاٹی (جس کو شعب ابی طالب کہاجاتاتھا) میں محصور رہا۔

س:ذکر الہی کی اقسام تحریر کریں اور لکھیں کہ افضل ذکر کون سا ہے ؟

ج:           ۱۔قلبی ذکر                           ۲۔قولی/لسانی ذکر                 ۳۔فعلی /عملی ذکر

ج:ذکر کی افضل ترین شکل نماز ہے            اور  افضل ترین ذکر   : لا الہ الا اللہ  ہے۔

س:ذکر کے لغوی اور اصطلاحی معانی لکھیں؟ نیز بتا ئیں کہ کس چیز سے  دلوں کو اطمینان ملتا ہے؟ ذکر کے بارے ایک قرآنی آیت ؟

ج:لغوی: یاد کرنا – — اصطلاحی : اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کو اطمئنان ملتاہے۔

آیت : اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ (سورۃ الرعد: 28) ترجمہ: آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتاہے۔

س:تسبیح فاطمہ سے کیا مرادہے ؟

ج:وہ کلمات جو  نبی مکرم ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو سکھلائے تھے ،1۔   ۳۳بار سبحان اللہ ،2۔  ۳۳  بار الحمدللہ ،3۔   ۳۴ بار اللہ اکبر

س:اخوت اور بھائی چارہ کے متعلق قرآن مجیدکی آیت مع ترجمہ تحریر کریں؟

ج: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات:10)      بے شک جو مومن ہیں وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں

س:نبی اکرم ﷺ کی زندگی سے مساوات اور ایفائے عھد کی ایک ایک مثال لکھیں؟

ج:ایفائے عھد: آپ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقعہ پر حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ کو اسلام قبول کر لینے کے باوجود صرف وعدہ کی پاسداری کرتے ہوئے اہل مکہ کے حوالے کر دیا۔

مساوات: آپ ﷺ نے مسجد قبا اور مسجد نبوی کے تعمیر کے وقت اور غزوہ احزاب کے موقعہ پر خندق کھودنے میں صحابہ کرام کے ساتھ مل کر کام کیا۔

مساوات: آپ ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید سے کر دی۔

س:عفو سے کیا مراد ہے ؟ اس کے لغوی اور اصطلاحی معانی تحریر کریں ؟

ج:لغوی: معاف کرنا ،درگزر کرنا

اصطلاحی تعریف:کسی کی غلطی یا جرم کو بدلہ لینے کی طاقت ہونے کے باوجود معاف کر دینا عفو کہلاتا ہے۔

س: رسول اللہ ﷺ کی عبادت کے بارے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے کیا واقعہ بیان کیا؟

ج: حضرت عائشہ  رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ رات کو نماز کے لیے اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے پاوں مبارک سوج جاتے ،میں نے عرض کی آپ کےلیے اللہ تعالیٰ نے  جنت لکھ دی ہے پھر آپ ﷺ اتنی مشقت کیوں کرتےہیں تو آپ ﷺ نے جواب  دیا کہ کیامیں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟؟

س: رسول اللہ ﷺ کی زندگی مبارک سے عفو ودرگزر کے متعلق واقعہ قلمبند کریں ؟

ج: واقعہ طائف: نبی اکرم ﷺ جب وادی طائف میں تبلیغ اسلام کے سلسلے میں گئے تو وہاں کے سرداروں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کرنے کے ساتھ ساتھ آپﷺ کے پیچھے کچھ لوگوں کو لگا دیا جنہوں نے آپ  ﷺ پر پتھر برسائے اورآپ ﷺ کا جسم مبارک لہولہان ہوگیا،جوتے خون سے تر ہوگئے ۔شہر سے باہر آکر آپ ﷺ ایک باغ میں تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض  کی کہ اگر آپ حکم دیں تومیں ان لوگوں کو بستی کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے رحمت بنا کر بھیجاگیا ہے یوں آپ ﷺ نے ان سے بدلہ لینے کی بجائے ان کے لیے دعا کی۔

  • بچوں پر رحمت: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے پیار فرما رہے تھے کہ پاس  بیٹھے شخص اقرع بن حابس نے کہا کہ میرے تو دس بیٹے ہیں میں نےکبھی کسی سے یوں پیار نہیں کیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: من لایَرحم لا یُرحم (جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیاجاتا)
  • حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ  غزوہ موتہ میں شہید ہوئے، حضرت اسماء بنت عمیس ، حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ  کی بیوی تھیں۔

س: قرآن کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کریں ؟ قرآن کے اندر قرآن کتنے نام ذکر کئے گئے ہیں ؟

ج:لغوی: لفظ قرآن “قراء یقراء قراءۃ” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں پڑہنا، لفظ قرآن کا لغوی مطلب ہے :بہت زیادہ پڑھی  جانے والی کتاب

اصطلاحی : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے ، واضح عربی زبان میں ، حضرت محمد ﷺ پر تقریبا 23 سال کے عرصہ میں نازل ہوا۔

س: قرآن کریم کے صفاتی نام لکھیں؟

ج:ذاتی نام : 1۔الکتاب ۔ 2۔الفرقان ۔ 3۔ نور ۔ 4۔ شفاء  ۔   5۔تذکرہ ۔ 6۔العلم  ۔7۔البیان

صفاتی نام: 1۔ حکیم  ۔   2۔ مجید 3۔مبارک ۔ 4۔ العزیز ۔ 5۔ مبین ۔6۔کریم

س: قرآن کریم کی ترتیب نزولی اور ترتیب توقیفی سے کیا مراد ہے ؟

ج:ترتیب نزولی سے مراد قرآن کریم کی وہ ترتیب ہے جس ترتیب سے قرآن کریم کی آیات اور سورتیں نازل کی گئیں۔

ترتیب توقیفی : سے مراد قرآن کی آیات اور سورتوں کی  وہ خاص ترتیب ہے جو نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی میں  لگائی۔ قرآن کی موجودہ ترتیب توقیفی ہی ہے ۔

س: حدیث کے لغوی اور اصطلاحی معانی لکھیں ؟

ج:لغوی: 1۔ بات چیت 2۔ گفتگو 3۔ نئی چیز/نئی بات

اصطلاحی : نبی اکرم ﷺ کے اقوال ، افعال اور تقریرات کو حدیث کہا جاتا ہے۔

س: حجۃ الوداع اور خطبہ حجۃ الوادع سے کیا مراد ہے ؟

 نبی مکرم ﷺ نے آخری حج دس ہجری میں ادا کیا ، اس حج کو حجۃ الوداع (الوداعی حج)کہا جاتا ہے۔ اس حج میں آپ نے عرفات کے میدان میں ایک خطبہ ارشاد فرمایاجس کو خطبہ حجۃالوداع کہا جاتا ہے۔

٭ آیت کے معنی ہیں “نشانی ” ۔ قرآن کریم کے ایک جملے کو آیت کہا جاتا ہے۔

٭ سورۃ کے معنی ہیں “نمایاں جگہ” ، ” چاردیواری والی جگہ” ۔ قرآن کریم کے ایک باب کو سورۃ کہا جاتاہے۔

٭ مسلمانوں کی کفار سے سب سے پہلی باقاعدہ جنگ “غزوہ بدر” اور سب سے آخری جنگ “غزوہ تبوک” کہلاتی ہے۔

٭ نبی مکرم ﷺ کی عمر مبارک تریسٹھ (63) برس ہے ، آپ نے مکہ میں 53 سال اور مدینہ میں 10 سال بسر کئے ،آپ ﷺ کو 40 سال کی عمر میں نبوت عطا کی گئی یوں نبوت والی عمر 23 سال بنتی ہے جس  میں سے 13 سال آپ ﷺ نے مکہ میں بسر کئے اور 10 سال مدینہ میں ۔

س: تدوین کے کیا معانی ہیں؟ تدوین قرآن سے کیامراد ہے ؟ تدوین حدیث سے کیا مراد ہے ؟

ج: کسی چیزکو ترتیب کے ساتھ لکھ کر محفوظ کرنا تدوین  کہلاتا ہے۔

تدوین قرآن : قرآن کریم کو ترتیب کے ساتھ لکھ کر محفوظ کر لینا ،  تدوین قرآن کہلاتا ہے۔

تدوین حدیث: احادیث کو ایک خاص ترتیب سے لکھ کر محفوظ کر لینا ، تدوین حدیث کہلاتا ہے۔

س: تدوین قرآن کے کتنےاور کون کون سے ادوار ہیں؟   

ج:تدوین قرآن کے 3 ادوار ہیں :

 1۔ عھد نبوی(نبی اکرم ﷺ کا دور)            2۔ عھد صدیقی (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دور)        3۔ عھد عثمانی(حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور)

س: تدوین حدیث کے کتنے اور کون کون سے ادوار ہیں؟

تدوین حدیث  کے 3 ادوار ہیں :     1۔ پہلی صدی ہجری  (نبی مکرمﷺ اور صحابہ کرام کا دور)

2۔ دوسری صدی ہجری (اس دور کا آغاز حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒکی خلافت سے ہوتاہے)

 3۔ تیسری صدی ہجری  (محدثین کا دور ،اس کے اختتام تک تمام احادیث باقاعدہ کتب کی شکل میں ترتیب کے ساتھ لکھ لی گئی تھیں، محدثین نے تمام مسلم علاقوں کے سفر کیے اور جس جس عالم سے احادیث ملیں ان کو ایک جگہ جمع کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل کتب تالیف فرمائیں)

س:حضرت ابو بکر صدیق کے دور میں کس صحابی نے قرآن مدون کیا ؟

ج:                حضرت زید بن ثابت ؓ نے ، ان کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔(حضر ت عثمان غنی کے دور میں بھی ان ہی کی ڈیوٹی  لگائی گئی تھی)

٭ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں مسلمانوں کی جنگ مسیلمہ کذاب سے ہوئی جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔

س: قرآن مجید کی کتابت ابتدائی طور پرکن چیزوں پرکی جاتی تھی ؟

ج: 1۔ پتھر کی سلوں /سلیٹوں پر  2۔ کھجور کے پتوں پر 3۔ اونٹ کے شانے کی ہڈی پر 4۔ کھال کی جھلی پر 5۔ کپڑوں پر۔

س: کاتبین وحی کی تعداد کتنی ہے ، کاتبین وحی کے نام ؟

ج: کاتبین وحی کی تعدادتقریباچالیس ہے،      ۱۔حضرت ابوبکر صدیق  ۲۔حضرت عمر فاروق ۳۔حضرت عثمان غنی۴۔حضرت علی المرتضیٰ۵۔حضرت زید بن ثابت ۶۔حضرت امیر معاویہ۷۔حضرت ابی بن کعب ۸۔عبداللہ بن ابی سرح(مکہ میں پہلے قریشی کاتب وحی) ۹۔حضرت زبیر ۱۰۔حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنھم اجمعین

س:حدیث نبوی ﷺ کی تین اقسام : قولی حدیث ، فعلی حدیث اور تقریری حدیث کی تعریف کریں اور ہر ایک کی مثال بھی دیں ؟

ج: قولی حدیث : نبی مکرم ﷺ کے اقوال و  فرامین کو قولی حدیث کہا جاتا ہے ۔مثال: انما الاعمال بالنیات۔

فعلی حدیث: نبی مکرم ﷺ کے افعال واعمال کو فعلی حدیث کہا جاتاہے۔مثال: 1۔ نبی مکرم ﷺ جب گھر تشریف لے جاتے تو گھر والوں کو سلام کہتے۔

تقریری حدیث: ایسا کام جو نبی مکرم ﷺ کی موجودگی میں کیا گیا تو یا تو آپ ﷺ نے اس کی تعریف فرما دی ہو ، یا کم از کم اس کے کرنے سے منع نہ فرمایا ہو ، وہ تقریری حدیث کہلاتا ہے۔جیسے ایک صحابی نماز فجر کی جماعت کے بعد کھڑے ہو کر نماز پڑہنے لگے تو آپ نے پوچھا اب کیا کرنے لگے ہو تو صحابی نے جواب دیا کہ میری پہلی دو سنتیں رہ گئیں تھیں ،وہ اب ادا کرنے لگا ہوں تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔

س:خطبہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم ﷺ نے جن باتوں کا حکم دیا ان میں سے ۵ کے نام لکھیں؟

1۔غلاموں کے حقوق،2۔قومیت اور برادری ازم  سے سختی سے منع فرمایا،3۔عورتوں کے حقوق،  4۔سود لینے دینے سے روکا، 5۔آپس کی لڑائی جھگڑے کی ممانعت، 6۔مال کی حرمت، 7۔جان کی حرمت،8۔عزت وآبرو کی حرمت، 9۔عزت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ کو قرار دیا۔

س:قرآن مجید کی خصوصیات  / خوبیاں لکھیں؟

ج:           *آخری کتاب           *محفوظ کتاب            *زندہ زبان والی کتاب                *عالمگیر کتاب           *جامع کتاب

*عقل وتہذیب کی تائید کرنے والی کتاب     *کتاب اعجاز

س: پہلی وحی کہاں نازل ہوئی ، پہلی وحی کی آیات لکھیں اور بتائیں وہ کتنی آیات ہیں؟

ج:پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی ، پہلی وحی کی آیات کی تعداد 5 ہے ، یہ سورۃ العلق کی پہلی آیات ہیں ، سورۃ العلق قرآن کے آخری پارے میں ہے۔

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ[1] خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ[2] اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ[3] الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ[4] عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ[5] سورۃ العلق: 1 تا 5 )

ترجمہ: اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا۔ [1] اس نے انسان کو ایک جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ [2] پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ [3] وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔ [4] اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ [5]

٭ نبی مکرم ﷺ نے وحی کی آمد کا تذکرہ سب سے پہلے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ سے کیا اور انہوں نے آپﷺ کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ آپﷺ کو ضرور کامیاب کریں۔

س:قرآن مجید کی طویل ترین اور مختصر ترین سورت کون سی ہے؟

 ج:قرآن کریم کی طویل ترین سورۃ کا نام “سورۃ البقرۃ” ہے۔ اور مختصر ترین سورۃ کا نام ” سورۃ الکوثر ” ہے۔

س:قرآن مجید میں کتنے پارے ، سورتیں ، منازل ، رکوع اور آیات ہیں ؟

ج:پارے : 30 ، سورتیں : 114 ، منازل/منزلیں : 07  ،( رکوع: درست تعداد: 558 / مشہور  غلط تعداد: 540)،   آیات: درست تعداد: 6236/ مشہورغلط  تعداد: 6666

س: مکی اورمدنی سورتوں کی تعداد واضح کریں؟ اور مکی ومدنی سورتوں کی پانچ ، پانچ خصوصیات لکھیں؟

ج:مکی سورتوں کی تعداد: 86 ہے اور مدنی سورتوں کی تعداد 28 ہے۔

مکی اور مدنی سورتوں میں فرق: رسول اللہ ﷺ کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے جو سورتیں نازل ہوئیں وہ سورتیں مکی کہلاتی ہیں اور ہجرت کے بعد جو سورتیں نازل ہوئیں وہ مدنی کہلاتی ہیں۔

مکی سورتوں کی خصوصیات:

1۔ مکی سورتیں مختصر ہوتی ہیں۔

2۔ مکی سورتوں کی آیات بھی مختصر ہوتی ہیں ۔

3۔ مکی سورتوں میں عقائد(توحید، رسالت اور عقیدہ آخرت) کی اصلاح پر زیادہ توجہ دی گئی ہے ۔

4۔ مکی سورتوں کی زبان مشکل اور انداز شعری ہے ۔

5۔ مکی سورتوں میں ” یا ایھا الناس ” کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے ۔

6۔ مکی سورتوں میں صبر کی تلقین کی  گئی ہے۔

مدنی سورتوں کی خصوصیات:

1۔ مدنی سورتیں طویل ہوتی ہے اور مدنی سورتوں کی آیات بھی طویل ہوتی ہیں۔

2۔ مدنی سورتوں کی زبان آسان اور سادہ ہے۔

3۔ مدنی سورتوں میں عبادات کی فرضیت اور دیگر احکام وتفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

4۔ مدنی سورتوں میں  معاشرتی ، معاشی اور سیاسی مسائل  کی تعلیم دی گئی ہے۔

5۔ مدنی سورتوں میں ” یا ایھا الذین اٰمنوا” کہ کر خطاب کیا گیاہے۔

6۔ مدنی سورتوں میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

7۔مدنی سورتوں میں عدل وانصاف کرنے کا حکم دیا گیاہے ۔

8۔ مدنی سورتوں میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

س: کس غزوہ کے بعد مدینہ میں لکھنے والوں کی تعدا د میں اضافہ ہو گیا                  ج: غزوہ بدر کے بعد

س:صحیفہ ہمام بن منبہ کے مخطوطے کن شہروں میں موجود ہیں ؟

ج: ایک مخطوطہ “برلن” میں ہے جبکہ دوسرا مخطوطہ “دمشق” میں ہے۔

س: نبی مکرم ﷺ نے کس صحابی سے قرآن کریم کی تلاوت سنانے کی فرمائش کی ؟

ج: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےاور انہوں نے سورۃ النساء کی چند آیات کی تلاوت فرمائی ۔

س:صحاح ستہ اور اصول اربعہ س کیا مراد ہے ؟

ج: صحا ح ستہ سے مراد حدیث کی مستند ترین چھ کتابیں ہیں ۔

اصول اربعہ سے مراد اہل تشیع کی (فقہ جعفریہ کی)  چار بنیادی کتا بیں ہیں۔

س: صحاح ستہ کی کتب اور ان کے مولفین کے نام لکھیں؟ (پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتاب کا صفحہ : 67)

س: اصول اربعہ کی کتب اور ان کے مولفین کے نام لکھیں؟(پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتاب کا صفحہ : 67)

س:صحابہ کرام کے صحیفوں کے نام  اورجمع کرنے والو ں کے نام لکھیں ؟

ج:1۔ صحیفہ صادقہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ۔

2۔حضرت علی المرتضیٰ کا صحیفہ: اس میں احکام ومسائل درج تھے۔

3۔حضرت ابو ہریرہ کا صحیفہ ، اس کو صحیفہ ہمام بن منبہ ” بھی کہا جاتا ہے۔  حضرت ہمام بن منبہ ، حضرت ابو ہریرہ کے شاگرد ہیں۔

س: حضرت عمر بن عبدالعزیز کون تھے ، ان کادور کہا ں سے شروع ہوتا ہے ؟

ج:حضرت عمر بن عبدالعزیز مسلمانوں کےخلیفہ/ حکمران تھے ، ان کا دور خلافت 99ھ سے شروع ہوتاہے۔   (یہ دور تدوین حدیث کا دور ثانی کہلاتا ہے۔)

س: تدوین حدیث کے دور ثانی میں کس کس امام نے احادیث کو جمع کرنے کا کام کیا اور  کون کون سی کتب وجود میں آئیں؟

 تدوین حدیث کے دور ثانی میں :

-مدینہ میں امام زہری نے احادیث کتابی شکل میں لکھیں۔

-کوفہ میں امام شعبی نے احادیث کتابی شکل میں جمع کیں۔

-شام  میں امام مکحول نے احادیث قلم بند کیں۔

اسی طرح  اس دور میں امام ابو حنیفہ کی کتاب “الآثآر “

      امام مالک کی کتاب “الموطا”  

اور               امام سفیان ثوری کی کتاب “جامع” معرض وجود میں آئی۔

س:حدیث قدسی سے کیا مراد ہے ؟

ج: وہ حدیث جس کی سند  اللہ تعالٰی تک پہنچتی ہو ، اوراس میں نبی اکرم ﷺ قرآن مجید کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنے الفاظ میں یا اللہ تعالیٰ کے ہی الفاظ میں بیان کریں۔

  • علامہ اقبال ؒ نے اپنی نظم جواب شکوہ میں مسلمانوں کی پستی کا واحد سبب قرآن سے علیحدگی اوراس کی تعلیمات سے  دوری قرار دیا ہے ۔

س: قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ۔

ج:ٹیکسٹ بک کے آخر میں دیا گیا ترجمہ یاد کیجیے۔

سوالیہ پیپر میں نمبروں کی تقسیم:

کثیر الانتخابی سوالات(10سوالات) : دس نمبر

مختصر جوابات  کے  سوالات(ہر سوال کے 2 نمبر)[چھ ، چھ] : چوبیس نمبر

تفصیلی سوالات — دو : (ہر سوال کے 8 نمبر) سولہ نمبر

کل نمبر : پچاس

#Islamic #Education #Inter #Part #First #Islamiat #Lazmi #DrRizwanAli #DrRizwanOnline #DrRizwanAli.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *